جموں، 29 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر بھیم سنگھ نے وادی کے چند لیڈروں کی آرٹیکل۔35 (A)کی وکالت کوناقابل قبول اور جموں وکشمیر میں رہنے والے ہندستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔پنتھرس سربراہ نے کشمیر کے لیڈر فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور دیگر لیڈروں سے دریافت کیا کہ کیا وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو ا س کی وضاحت دے سکتے ہیں کہ انہیں آرٹیکل۔35میں ’اے‘ لگاکر کیوں بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 35Aکی وجہ سے ہی جموں وکشمیر کے لوگوں کو بنیادی حقوق اورشہری آزادی سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے ان تمام مگر مچھ کے آنسو بہانے والے لوگوں کو چیلنج کیا کہ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ آرٹیکل۔35Aکا کیارول ہے؟ہندستان میں کسی بھی شخص کو بغیر مقدمہ کے تین مہینہ سے زیادہ قید نہیں رکھا جاسکتا کیونکہ بنیادی حقوق کسی بھی ریاست کو اس کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ کسی شخص کو بغیرمقدمہ کے تین مہینہ سے زیادہ جیل میں رکھ سکے جبکہ جموں وکشمیر حکومت یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آرٹیکل۔35، جس میں صدر نے آرڈی ننس جاری کرکے Aجوڑ دیا ہے، کی بدولت کسی بھی شخص کو دو برس سے زیادہ جیل میں رکھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ خود پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت آٹھ برس سے زائد جیلوں میں کاٹ چکے ہیں جو آرٹیکل۔35کی خلاف ورزی ہے۔آرٹیکل 35Aجموں وکشمیر کے لوگوں کو کسی بھی وقت بھیڑ بکریوں کی طرح بغیر کسی فرد جرم یا مقدمہ کے جیل میں ڈالنے کی اجازت دیتا ہے۔کشمیر کے بڑے لیڈر شیخ عبداللہ بھی اس 35 A قانون کی وجہ سے کافی سالوں تک جیلوں میں رہے تھے۔انہوں نے جموں وکشمیر کے لوگوں سے کہا کہ انہیں آرٹیکل۔35Aکے تحت ریاستی حکومت کو حاصل اختیارات کا مطالعہ کرنا چاہئے جو حکومت کو اس بات کا حق دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت بغیرمقدمہ کے سالوں تک جیل میں ڈال سکتی ہے۔پروفیسربھیم سنگھ نے کہا کہ ریاست کی سابقہ حکمراں جماعتیں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، کانگریس اور یہاں تک کے بی جے پی اس لئے 35 Aکی حمایت کرتی ہیں کیونکہ وہ انہیں اپوزیشن کو کچلنے یا تباہ کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ ایسا ہوتا رہا ہے اور آج بھی جاری ہے۔پنتھرس پارٹی کے سربراہ نے جموں وکشمیر کی قیادت، دانشوروں، طلبا، نوجوانوں اور دیگر سے پنتھرس پارٹی کی حمایت کرنے کی اپیل کی جو جموں وکشمیر میں تمام بنیادی حقوق کے نفاذ کے لئے لڑرہی ہے تاکہ حکومت آرٹیکل 35 Aکی تلوار کااستعمال کرکے کسی بھی معصوم شخص کو جیل میں نہ ڈال سکے اور ریاست کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہ کرسکے۔